حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انسان کی تخلیق کا مقصد یہ نہیں کہ وہ دنیا میں پیش آنے والی نعمتوں اور آزمائشوں کے اطراف سے بے حسی کے ساتھ گزر جائے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ نعمتوں اور مشکلات دونوں کے سمندر میں خود کو ڈالے اور ان سے سلامتی کے ساتھ باہر نکلے۔ یہی جدوجہد انسان کو سنوارتی ہے۔
اسی سلسلے میں ممتاز مفکرِ اسلام استاد شہید مرتضیٰ مطہری نے اپنی معروف کتاب میں ’’الٰہی امتحانات کے سائے میں انسان کی تکمیل‘‘ کے موضوع پر نہایت عمیق اور فکرانگیز نکات بیان کیے ہیں، جنہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
استاد شہید مطہری لکھتے ہیں کہ انسان دنیا میں اس لیے نہیں آیا کہ وہ نعمتوں اور مصیبتوں کے پاس سے گزرتا رہے، بلکہ اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ نعمتوں کے سمندر میں بھی اترے اور سختیوں و گرفتاریوں کے طوفان میں بھی خود کو ڈالے، اور پھر ان سب مراحل سے سلامت نکل آئے۔
ان کے مطابق، جو شخص اپنی پوری زندگی میں بلاؤں، مصیبتوں اور سخت حالات سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرے اور ہمیشہ آسان راستہ اپنائے، وہ کبھی حقیقی معنوں میں انسان نہیں بن پاتا اور اس کی شخصیت نشوونما سے محروم رہتی ہے۔
اسی طرح استاد شہید مطہری اس نکتے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو زندگی میں کبھی نعمت، آسائش اور کامیابی کا سامنا ہی نہ ہو تو وہ بھی اس کمال تک نہیں پہنچ سکتا جو اس دنیا میں اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے، کیونکہ شکر، ذمہ داری اور ضبطِ نفس بھی نعمت کے بطن سے ہی جنم لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان کا حقیقی کمال اسی میں ہے کہ وہ دنیا میں نعمتوں اور سختیوں دونوں سے بھرپور انداز میں ٹکرائے، ان کے اندر اترے، اور اس کشمکش کے بعد روحانی، فکری اور اخلاقی آزادی کے ساتھ میدانِ زندگی سے باہر نکلے۔
ماخذ:
استاد شہید مرتضیٰ مطہری، کتاب: آشنایی با قرآن، جلد 7، صفحہ 208









آپ کا تبصرہ